میں تمہیں دیکھتی ہوں تو مجھے خوشی ہوتی ہے، تو اس لئے میں دُنیا کی پرواہ نہیں کرتی۔ ۔۔۔۔
اور پھر ایک دن، اُس نے دنیا کی پرواہ کرنا شروع کردی اور ملنا بھی ختم کردیا۔ جانے والے نے تو مجھ سے الوداع بھی نہ کہا اور یکدم سارے رابطے ختم کردئیے۔ وہ، جو میرے لیے سب کچھ تھا، جس کی ہر بات میری دنیا کا محور تھی، ایک دن اچانک بدل گیا۔ نہ کوئی جھگڑا، نہ کوئی تلخی، نہ ہی کوئی ایسی وجہ جسے میں سمجھ پاتا۔
آج بھی دل میں بہت سے سوال ہیں، بہت سے شکوے ہیں، جو میں اُس سے کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے خیالوں میں کئی بار یہ شکوے کیے، اپنی دل کی ہر بات کہہ ڈالی، ہر غم سنایا، ہر درد بیان کیا۔ مگر یہ سب صرف میرے خیالات کی دنیا میں ہی رہ گیا۔ حقیقت میں، مجھے اُس کے سامنے اپنی بات کہنے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا، اور شاید اب کبھی ملے گا بھی نہیں۔
زندگی کی بھی عجب کہانی ہے۔ کبھی کوئی ہمارے دل کے قریب ہوتا ہے، ہر لمحے کا ساتھی، ہر خوشی اور ہر غم میں شریک، اور پھر یکدم ایسا لگتا ہے جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ کہتے ہیں کہ کچھ نظرِ بد ایسی ہوتی ہیں جو صرف انسانوں کو ہی نہیں، بلکہ رشتوں کو بھی لگ جاتی ہیں۔ ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ شاید ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی تھی، شاید ہمارا ساتھ کسی کو برداشت نہیں ہوا تھا۔ اور پھر نہ وہ رشتہ باقی رہا، نہ وہ شخص۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ بچھڑنے کے باوجود، وہ آج بھی میرے نام کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔
تم آئے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ تم جا سکتے ہو، مگر ایسا ہوا اور تم چلے گئے۔ آنکھ اوجھل تو پہاڑ اوجھل۔۔۔ تمہیں کبھی اس بات پر یقین نہ تھا کہ محاورے سچ بھی ہوتے ہیں مگر شاید شروع سے مجھے اس بات کا یقین رہا کہ ایسا ہوگا اور دیکھو کہ آج تک یہ سکون تو تھا کہ تمہاری جھلک ہی سہی مگر یہی صبر کافی تھا یا پھر صبر ہمیشہ رہا کہ تم بالکل آس پاس ہو۔تمہارے پاس میرے بارے کوئی بھی اچھی یاد نہیں ہوگی کہ میں نے اچھی یادوں کے لئے کبھی کوئی ایسا کچھ کیا ہی نہیں کہ تم جانے کے بعد بھی مجھے یاد کرسکو۔
سنو!!تم ٹھیک ہی کہتی تھیں، کہ میں بہت کڑوا ہوگیا ہوں، مگر کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوا؟ ہم رشتوں میں کبھی کبھی خود کو بہت زیادہ غیر محفوظ سمجھنے لگتے ہیں، کہ جہاں ہمیں صرف کھونے کا ڈر ہمیشہ رہے تو ہم بہت زیادہ اُن چیزوں پر عمل کرنے لگتے ہیں کہ جو نہیں ہونی چاہئیں۔ ہم غصہ بھی کرتے ہیں، شک بھی کرتے ہیں، لڑتے بھی ہیں اور وہ سب کچھ کرتے ہیں جو نہیں ہونی چاہئیں۔ مگر ان سب باتوں کے بعد بھی فکر اور پراہ ہمیشہ پہلے کی طرح ہی رہتی ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ جو شخص کل تک میرے ساتھ تھا، جس کی ہنسی میرے دل کو سکون دیتی تھی، وہ آج کہیں نہیں ہے۔ اور یہ بھی عجیب ہے کہ لوگ آج بھی ہم دونوں کو ایک ساتھ یاد کرتے ہیں، جیسے ہم کبھی الگ ہوئے ہی نہ ہوں۔ مگر سچ تو یہی ہے کہ وہ چلا گیا، اور میں وہیں رک گیا، جہاں وہ مجھے چھوڑ کر گیا تھا۔
جب کوئی آپ کے دِل کے قریب ہوتا ہے، تو اُس کی موجودگی آپ کے وجود کا حصہ بن جاتی ہے۔ اُس کی ہنسی، اُس کی باتوں کا انداز، اُس کی چھوٹی چھوٹی عادتیں، سب کچھ آپ کے دِل میں ایک خاص جگہ بنا لیتا ہے۔ اور جب وہ چلا جاتا ہے، تو وہ جگہ خالی ہو جاتی ہے۔ یہ خالی جگہ آپ کو ہر وقت یاد دلاتی ہے کہ وہ شخص اب آپ کے ساتھ نہیں ہے۔
میرے دِل میں بھی ایسی ہی ایک خالی جگہ ہے۔ یہ جگہ اُس کی یادوں سے بھری ہوئی ہے۔ کبھی کبھی، جب میں اکیلا ہوتا ہوں، تو یہ یاد مجھے اُس کی طرف کھینچ لیتی ہیں۔ میں اُس کی ہنسی، اُس کی باتوں، اور اُس کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کو یاد کرتا ہوں۔ اور پھر، اچانک، مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ اب میرے ساتھ نہیں ہے۔
دِل کی بات یہ ہے کہ وہ شخص میرے لیے اب بھی اہم ہے۔ چاہے وہ میرے ساتھ نہ ہو، لیکن اُس کی یاد میرے دِل میں زندہ ہے۔ میں اُس سے ملنے کی خواہش رکھتا ہوں، اُس سے بات کرنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ میں اُس سے اپنے دِل کی بات کہنا چاہتا ہوں، اُسے بتانا چاہتا ہوں کہ اُس کے جانے کے بعد میرے دِل پر کیا گزری ہے۔
مگر شاید یہ ممکن نہیں ہے۔ شاید وہ شخص اب میرے ساتھ نہیں ہے، اور شاید وہ کبھی واپس نہ آئے۔ مگر میں اُس کی یادوں کو اپنے دِل میں زندہ رکھنا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ شخص جانتا ہو کہ وہ میرے لیے اب بھی اہم ہے۔ مہدی حسن کا یہ گانا اکثر گنگنا نا اچھا لگتا ہے۔۔۔
مجھے تم نظر سے۔۔
گِرا تو رہے ہو۔۔۔
مجھے تم کبھی بھی۔۔۔۔
بھُلا نہ سکو گے۔۔۔